IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

دورہ زمباوے اور ’’را‘‘ کی کارستانیاں

 تئیس جون کو پنجاب کے وزیر داخلہ ’’ شجاع خانزادہ ‘‘ نے انکشاف کیا کہ ’’ بھارتی خفیہ ادارے ’’ را ‘‘ نے پوری کوشش کی کہ زمباوے کی ٹیم پاکستان کا دورہ نہ کرے تا کہ پاکستان zکے کھیلوں کے میدان ویران رہیں اور عالمی سطح پر اسے سفارتی تنہائی کا مزید سامنا کرنا پڑے ۔ ‘‘ اس امر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ زمباوے کی کرکٹ ٹیم جب پاکستان آنے کے لئے دبئی ایئر پورٹ پہنچی تو اس کے منیجرکو ’’ ایس ایم ایس ‘‘ کے ذریعے پیغام موصول ہوا کہ اگر زمباوے نے پاکستان کا دورہ منسوخ نہ کیا تو اس کا حشر انتہائی بھیانک ہو گا اور جس طرح ’’ داعش ‘‘ لوگوں کو ذبح کرتی ہے اسی طرح اس کے تمام کھلاڑیوں اور اہلکاروں کو پاکستان میں ختم کر دیا جائے گا‘‘ ۔ 
زمباوے کی ٹیم کے ذمہ داروں نے اس ’’ ایس ایم ایس ‘‘ پیغام کی بابت پاکستانی حکومت کو آگاہ کیا جس پر حکومت نے پاکستان کے متعلقہ سیکورٹی کے اداروں سے رابطہ کیا جنہوں نے تحقیقات کے بعد اطلاع دی کہ جس نمبر سے پیغام z2موصول ہوا ہے ، وہ دہلی میں ’’ را ‘‘ کے ایک اہم عہدیدار کے زیرِ استعمال ہے ۔‘‘
مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ صرف اسی ایک امر سے واضح ہو جاتا ہے کہ بھارتی حکومت اور اس کے ادارے پاکستان کے اندر دہشتگردی کو فروغ دینے میں کس حد تک ملوث ہیں ۔ 
مبصرین نے اسی پس منظر میں مزید کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے سفارتی سطح پر بھی پوری کوشش کی کہ زمباوے پاکستان کا دورہ نہ کرے مگر جب ان کی بات نہ مانی گئی تو بھارتی حکومت نے اشتعال میں آ کر 22 جون کو بھارتی کرکٹ ٹیم کا مجوزہ دورہ زمباوے منسوخ کر دیا ۔ یاد رہے کہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق انڈین کرکٹ ٹیم نے 10 جولائی سے زمباوے کا دورہ کرنا تھا جہاں اس نے 3 ون ڈے اور 2 ٹی ٹونٹی کے میچ کھیلنے تھے مگر زمباوے کی حکومت کی جانب سے دہلی کی سازشوں کا آلہ کار نہ بننے کے نتیجے میں اظہارِ ناراضگی کے طور پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کو زمباوے جانے سے روک دیا اور اس ضمن میں یہ عذر تراشا گیا کہ بھارت زمباوے کرکٹ سیریز کے حوالے سے بین الاقوامی سپورٹس چینل ’’ ٹین سپورٹس ‘‘ کے ساتھ معاہدے کے سلسلے میں زمباوے کی حکومت کے ساتھ تنازعہ پیدا ہو گیا تھا ، اس لئے یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ۔
پاکستان میں بھارتی سازشوں کا ذکر کرتے غیر جانبدار ماہرین نے کہا ہے کہ ابھی چند روز پہلے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ’’ برہمداخ بگٹی ‘‘ نے اعلانیہ طور پر پاک چین اقتصادی راہداری کی مخالفت کی اور کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے بلوچ عوام کے انسانی حقوق پامال ہوں گے اس وجہ سے اس منصوبے کو مکمل نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ 
اسی تناظر میں یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ ’’ برہمداخ بگٹی ‘‘ ، ’’ ہربیار مری ‘‘ اور کئی دوسرے شر پسندوں کے پاس نہ صرف بھارتی پاسپورٹ ہیں بلکہ ’’ را ‘‘ اور ’’ انڈین انٹیلی جنس بیورو‘‘ ان گروہوں کے ذریعے بلوچستان میں دہشتگردی کو پوری طرح فروغ دے رہے ہیں ۔ 
ایسے میں عالمی برادری کا فرض ہے کہ بھارت کو اس مکروہ روش سے باز آنے کا مشورہ دے وگرنہ اس کے نتائج علاقائی اور عالمی امن کے لئے کسی صورت اچھے نہیں ہوں گے تبھی تو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ’’ ڈاکٹر ملیحہ لودھی ‘‘ نے اس عالمی ادارے کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف اگر کسی نے بھی کسی بھی نوعیت کی مہم جوئی کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور ایسے تمام عناصر چاہے وہ اندرونی ہوں یا بیرونی ، ان کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا اور اس ضمن میں پاکستانی عوام ، مسلح افواج اور سیاسی قیادت پوری طرح یکسو ہیں ۔ 

ستائیس جون کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں ) 

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter