!سکھوں کو آر ایس ایس میں ضم کرنے کی سعی ۔۔۔ایک جائزہ

یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ پاکستان کی سبھی حکومتوں نے ہمیشہ سے یہ کوشش کی ہے کہ بھارت کے ساتھ بقائے باہمی کے اصولوں پر تعلقات استوار رکھے جائیں، یہ ایک الگ موضوع ہے کہ بھارت کی جانب سے مثبت انداز میں کبھی جواب نہیں ملا۔ عمران خان کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو انھوں نے باقاعدہ عنانِ اقتدار سنبھالنے سے بھی پہلے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت ایک قدم چلے گا تو ہم دو قدم چلیں گے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ اس ضمن میں بوجوہ تاحال ہونے والی پیش رفت کوئی ٹھوس شکل اختیار نہیں کر سکی۔ اس کے باوجود وطن عزیز کی جانب سے یہ معاملات آگے بڑھے اور پاکستان نے کرتار پور راہداری کا باقاعدہ طور پر سنگ بنیاد رکھ دیا جس میں بھارت کی جانب سے بی جے پی کی فوڈ پراسیسنگ کی وفاقی وزیر ہرسمرت کور اور مشرقی پنجاب کے کانگرسی صوبائی وزیر نوجوت سنگھ سندھو شریک ہوئے۔ غیر جانبدار مبصرین نے اس امر کو ایک صحت مند پیش رفت قرار دیا ہے البتہ یہ بات خصوصی توجہ کی حامل سمجھی جانی چاہیے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی اس ضمن میں ایک عرصے سے دو رخی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔
یوں تو ہندوستان کے بالا دست طبقات کی عرصہ دراز سے یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے خلاف ہر سطح پر ایسی کوششیں جاری رکھی جائیں جن کے نتیجے میں اکھنڈ بھارت اور رام راجیہ کے قیام کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے اور اسی تناظر میں 1925 میں ڈاکٹر ہیگواڑ کی زیر قیادت آر ایس ایس کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں یہ امر خصوصی طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ پاکستان کے حوالے سے بی جے پی اور کانگرس کی قیادت میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے، البتہ ان کی حکمت عملی میں تھوڑی بہت تبدیلی ظاہر ہوتی رہتی ہے مگر دونوں کا بنیادی ایجنڈہ بڑی حد تک ایک سا ہی ہے۔ اس بات کو یوں زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح قیام پاکستان کے بعد کے ابتدائی برسوں میں خاصے طویل عرصے تک نہرو سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کی حامی بھرتے رہے البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ۔ البتہ نہرو کے بعد آنے والے بھارتی حکمرانوں خصوصاً اندرا گاندھی نے تو گویا کھل کر پاک مخالف ایجنڈہ اعلانیہ طور پر اپنا لیا جس کے نتیجے میں سانحہ مشرقی پاکستان پیش آیا۔ یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کو دولخت کرنے کے فوراً بعد تب بھارتی جن سنگھ (موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی) کے سربراہ اٹل بہاری واجپائی نے مسز گاندھی کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ’’شی از درگا ماتا‘‘۔واضح رہے کہ ہندو دیو مالا میں درگا تباہی و بربادی کی دیوی ہے۔
بہرکیف آگے چل کر 6 جون 1984 کو آپریشن بلیو سٹار میں ہزاروں سکھوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا جس کے ردعمل کے طور پر 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اس کے فوراً بعد تین تک دہلی میں سکھوں کا قتل عام ہوتا رہا اور جگدیش ٹائٹلر اور ایچ کے ایل بھگت جیسے وزیروں نے بھی بذات خود سکھوں کے اس قتل عام میں حصہ لیا اورخشونت سنگھ اور لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کی سطح کے سکھوں کو بھی اپنی جان بچانے کے لئے غیر ملکی سفارت خانوں میں پناہ لینا پڑی۔ اس معاملے کا اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ اس وقت کے سکھ بھارتی صدر ’’گیانی ذیل سنگھ‘‘ نے بھی بعد میں اعتراف کیا کہ ان دنوں انھوں نے اپنے قریبی عزیزوں کی جان بچانے کے لئے دہلی بی جے پی (بھارتی جن سنگھ) کے صدر مدھن لعل کھرانہ اور ’’صاحب سنگھ ورما‘‘ سے مدد لی تھی۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دہلی میں جاری سکھوں کی اس نسل کشی کے خلاف انسانی حقوق کے چند حلقوں نے آواز اٹھائی تو راجیو گاندھی نے کہا کہ ’’جب کوئی بڑا درخت کاٹ کر گرایا جاتا ہے تو اس کی دھمک سے ارد گرد کی زمین میں کچھ ارتعاش تو پیدا ہونا فطری بات ہے اور اس درخت کی زد میں آنی والی گھاس پھوس کچلی جاتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسی سنگ دلانا بات سیکولر بھارت کا وزیر اعظم ہی کہہ سکتا ہے۔ اس کے بعد بھارت میں سکھوں کی نسل کشی کا ایک لمبا دور چلا۔ ایک سکھ مصنف ’’گرچرن سنگھ ببر‘‘ نے اپنی تصنیف ’’ گورنمنٹ آرگنائزڈ کارنیج‘‘ میں خاصی تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے۔ آپریشن بلیو سٹار اور سکھ نسل کے دوران بھارتی آرمی چیف شری دھر ویدیا کو 10 اگست 1986 کو انکی ریٹائرمنٹ کے چھ ماہ بعد دو سکھ نوجوانوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ آپریشن بلیو سٹار میں مرکزی کردار ادا کرنے والے بھارتی فوج کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کلدیپ سنگھ برار پر لندن میں انکی اہلیہ کے ہمراہ قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔
ْسکھوں کی اس نسل کشی کے بعد سبھی بھارتی خفیہ اداروں کی ہدایت پر کانگرس اور خصوصاً بی جے پی نے شعوری کوشش کی کہ سکھوں کو واپس کسی بھی طور قومی دھارے میں لایا جائے، اس مقصد کے لئے مختلف سطح پر بیک وقت کئی شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیاں بنائی گئیں۔ مثلاً ایک جانب 1986 میں آر ایس ایس نے ’’ راشٹریہ سکھ سنگت‘‘ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کو انتہائی منظم اور مربوط طریقے سے پورے بھارت کے سکھوں میں پروان چڑھایا گیا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپریشن بلیو سٹار کے بعد سے بھارتی حکومت (بھلے ہی وہ کانگرس ہو یا بی جے پی ) نے دانستہ طور پر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ سکھ درحقیقت ہندوؤں کا ہی ایک فرقہ ہے۔ اپنے اس خیال کو تقویت پہنچانے کی غرض سے 2002 میں انڈین آرمی کے سابق سکھ ایئرمارشل ’’ارجن سنگھ‘‘ کو ’’مارشل آف دی ایئر فورس‘‘ کا اعزاز دیتے ہوئے انھیں بھارتی ایئر فورس کا واحد ’’فائیو سٹار ایئرچیف ‘‘ بنانے کا انتہائی ’’غیر معمولی‘‘ قدم اٹھایا گیا ۔ یاد رہے کہ موصوف 1965 کی جنگ کے دوران بھارت کے ایئر چیف تھے۔ یوں انھیں جنگ کے 37 برسوں بعد نجانے کس ’’خدمت ‘‘کے عوض یہ اعزاز بخشا گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کی شہہ پر یہ ایئر فورس کی پوری تاریخ پر بھاری یہ غیر معمولی قدم اٹھایا گیا جس کا مقصد صرف اور صرف یہی تھا کہ کسی بھی طور سکھ قوم میں موجود ہندو مخالف جذبات کو قدرے ٹھنڈا کیا جائے۔ واضح رہے کہ 16 ستمبر 2017 کو موصوف 98 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ توجہ طلب امر ہے کہ بھارتی فوج میں انڈین آرمی کے پہلے سربراہ جنرل کری اپا اور 1971 کی جنگ کے دوران بھارتی آرمی چیف ’’جنرل مانک شا‘‘ بھی فائیو سٹار جنرل بنائے جا چکے ہیں۔ بات ہو رہی تھی راشٹریہ سکھ سنگت ، آر ایس ایس اور بی جے پی کی ملی بھگت کی۔ 1986 میں راشٹریہ سکھ سنگت کے قیام کے بعد سے اب تک راجستھان، دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور خصوصاً پنجاب میں اس کی 500 سے زائد شاخیں قائم ہو چکی ہیں۔
دوسری جانب بھارتی سکھوں میں بھی خاصی حد تک آر ایس ایس اور بھارتی ایجنسیوں کی اس سازش کا ادراک ہو چکا ہے۔تبھی تو 2004 میں ’’اکال تخت‘‘ کے اس وقت کے جتھے دار ’’جوگندر سنگھ ودیانتی‘‘ نے راشٹریہ سکھ سنگت کو ’’سکھ دشمن‘‘‘ تنظیم قرار دے دیا تھا۔ 2009 میں ایک سکھ تنظیم ’’ببر خالصہ‘‘ نے اس وقت کے راشٹریہ سکھ سنگت کے سربراہ رُلدا سنگھ کو پٹیالہ میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اکتوبر 2017 میں اکال تخت کے جتھے دار گیانی گربچن سنگھ نے کہا تھا کہ ’’ آر ایس ایس آراشٹریہ سکھ سنگت کو استعمال کرتے ہوئے سکھ دھرم کو ہندو ازم میں ضم کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں، بھارت کے لئے نمایاں کارنامے انجام دینے والے سکھ بھی جب پنجاب سے باہر جاتے ہیں تو انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، سکھ دھرم ہندو مذہب سے بالکل علیحدہ ہے اور سکھ ایک علیحدہ قوم ہے ، اگر آر ایس ایس اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی تو اس کے نتائج خوش آئند نہیں نکلیں گے‘‘۔
غیر جانبدار مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ سکھ قوم اور پاکستان کے مابین باہمی تعلق خاصی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے، جسے اس خطے کے کلچر کیلئے اچھا شگون قرار دیا جانا چاہیے، اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کے لوگوں نے تقسیم ہندوستان کے انسانی المیے کو جتنا قریب سے دیکھا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، کیونکہ اکثر مبصرین متفق ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت تقریباً 10 لاکھ افراد موت کی بھینٹ چڑھ گئے اور ان میں سے 90 فیصد کا تعلق دونوں اطراف کے پنجاب ہی سے تھا۔ شاید یہی وجہ ہو کہ مشرقی پنجاب اور پاکستان حقیقی معنوں میں امن کے ’’متلاشی‘‘ ہیں۔ کرتار پور راہداری بھی ااسی ضمن میں ایک بڑا قدم ہے۔ یوں بھی اگر یہ عمل آگے بڑھے تو اس کے دیر پا اثرات پورے جنوبی ایشیاء خصوصاً پاک و ہند کے مابین ثقافتی ہم آہنگی کا سبب بن سکتے ہیں اور آگے چل کر مقبوضہ جموں کشمیر کے منصفانہ حل میں بھی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ثقافتی روابط بعض اوقات مذہبی روابط سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے میں آگے چل کر پورے جنوبی ایشیاء میں معاشی ترقی ،خوشحالی و رواداری کے دروازے کھلنے میں معاونت مل سکتی ہے، یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ پاکستان کی حکومت، عوام اور پاکستان کی سول سوسائٹی پہلے ہی سے اس ضمن میں مقدور بھر مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسے میں عالمی برادری بھی اس حوالے سے اگر اپنا انسانی فریضہ نبھائے تو پورا جنوبی ایشیائی خطہ بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔

تیس اور اکتیس دسمبر 2018 کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top