IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

سیاچن, انخلا کا پاکستانی مطالبہ اور بھارت

پاکستان نے ایک سے زائد مرتبہ بھارت کو پیش کش کی ہے کہ سیاچن گلیشئر سے دونوں ملک اپنی افواج واپس بلا لیں تا کہ نا صرف دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے بلکہ سیاچن پر ہونے والے بھاری اخراجات دونوں ملک اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کر سکیں اور اس کے ساتھ ماحول کو درپیش ممکنہ خطرات میں بھی کمی واقع ہو ۔

اس پس منظر میں 4 دسمبر 2013  کو وزیرِ اعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے ایک انٹرویو کے دوران بھارت پر زور دیا کہ وہ سیاچن سے اپنی فوج واپس بلا لے کیونکہ بھارتی افواج کی وہاں موجود گی سے موحول کے لئے بہت بڑے خطرات پیدا ہو رہے ہیں جس کے منفی اثرات براہ راست پاکستان پر پڑ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ کسی بڑے سانحہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ 1984  میں بھارتی فوج نے سیاچن پر ناجائز تسلط جمایا تھا جس کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنی فوجیں وہاں متعین کرنا پڑیں۔ یوں ہندوستان کی فوج کے ٖ قبضے کی وجہ سے نہ صرف دونوں ملکوں کے معاشی مسائل پر خاصا بوجھ پڑ رہا ہے بلکہ قابض انڈین آرمی نے گذشتہ 30 برسوں میں اس گلیشئر کو اتنا آلودہ اور پراگندہ کر دیا ہے کہ مستقبل قریب  میں پاکستان کی جانب آنے والے پانی پر اس کے اثرات خطرناک حد تک مرتب ہو سکتے ہیں اور آئندہ برسوں میں یہ گلیشئر پگھل کر ناقابلِ تصور تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

اس ضمن میں غیر جانبدار ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ 2005 میں پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اس امر پر متفق ہو چکی تھیں کہ گلیشئر سے اپنی اپنی فوج واپس بلا لی جائے۔ بھاتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے تو باقائدہ اس امر کا اعلان بھی کیا تھا کہ فوجی انخلا کے بعد سیاچن کو “امن پارک” میں تبدیل کر دیا جائے گا مگر پھر انڈین آرمی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا یوں بھارتی فوج کے ویٹو کی وجہ سے یہ امن معاہدہ پروان نہ چڑھ سکا۔

اس کے بعد بھی پاکستان کی جانب سے کئی ایسی تجاویز سامنے آئیں خصوصاً 7 اپریل 2012  کو سیاچن کے مقام “گیاری” پر جب برفانی تودہ گرنے سے پاک فوج کے تقریباً 150 افسر اور جوان شہید ہوئے تو پاکستان کی سیاسی اور عسکری  قیادت کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے بیک وقت انخلا کی تجویز سامنے آئی مگر بھارتی فوج نے اس پیش کش پر کان نہ دھرے مبصرین کے مطابق گذشتہ 30 برسوں میں سیاچن کے مقام پر اگرچہ انڈین آرمی کا مالی اور جانی نقصان پاکستان سے کہیں زیادہ ہوا ہے مگر بد قسمتی سے بھارتی فوج کی جانب سے ہٹ دھرمی کا رویہ برقرار ہے جس کی مخالفت خود بھارت کے انسان دوست اور قدرے اعتدال پسند حلقے بھی کر رہے ہیں۔

تبھی تو انڈین ایکسپریس کے چیف ایڈیٹر ” شیکھر گپتا” نے 7 دسمبر 2013 کو اپنے مضمون  NATIONAL INTEREST: DISARMING KASHMIR میں کہا ہے کہ یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ گذشتہ برسوں میں بھارتی فوج کے پاس خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کے حوالے سے ویٹو کا اختیار آ چکا ہے اسی وجہ سے نہ صرف کشمیر(مقبوضہ) میں خاطر خواہ بہتری نہیں ہو رہی بلکہ سیاچن کا مسئلہ بھی حل نہیں ہو رہا۔ 16 اپریل 2012 کو “سی راجہ موہن” نے بھی انڈین ایکسپریس میں تقریباً اسی حوالے سے بھارتی حکومت اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپناتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز اور حکومتِ پاکستان کی اس تجویز پر مثبت رویہ اپنائے جس میں دونوں افواج کے انخلا کی پیش کش کی گئی ہے تا کہ ماحول کو درپیش خطرات میں کمی آنے کے ساتھ  پورے خطے میں امن و سلامتی کا ماحول پیدا ہو سکے۔

(22 دسمبر کو نوائے وقت میں شائع ہوا)۔

مندرجہ بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے  ۔ جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی دوسرا ادارہ ذمے دار نہیں ہے۔

 

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter