IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

طالبان مذاکرات مین تعطل۔۔۔۔ممکنہ بھارتی کردار

کراچی،فاٹا،بلوچستان،گلگت اور پنجاب کے مختلف حصوں میں اچانک فرقہ وارانہ دہشتگردی مین اضافہ ہوا ہے اور طالبان کے ساتھ مجوزہ مذاکرات میں تعطل پیدا ہو گیا ہے ۔با خبر ذرائع نے رائے ظاہر کی ہے کہ اس صورتحال کے لئے ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ بھارت بھی ذمہ دار ہے بلکہ شائد دہلی کے حکمران ہی اس ضمن میں اصل ماسٹر مائنڈ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایک جانب آپریشن راہ راست کے دوران پکڑے جانے والے 23 “ٹی ٹی پی” کارکنوں ،کمانڈر لطیف اللہ محسود،مولوی فضل الاللہ اور سابق انڈین آرمی چیف اعتراف کر رہے ہیں کہ بھارتی اور افغان خفیہ ادارے پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دے رہے ہیں تو دوسری جانب بھارت کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور میڈیا نے اپنی روایتی روش کے عین مطابق پاکستان اور اس کے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ اس حقیقت کو ایک المیہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ دہلی کے حکمران طبقات نے پاکستان اور اس کے خفیہ اداروں خصوصاً”آئی ایس آئی” کو ایسا سافٹ ٹارگٹ بنا رکھا ہے،جس پر ہر قسم کی الزام تراشی گویا جائز ہی نہیں،بلکہ بھارتی میڈیا اور حکمرانوں کا فرضِ اولین ہے۔وگرنہ زمینی حقائق پر نظر ڈالیں تو صورتحال قطعاً مختلف بلکہ متضاد نظر آتی ہے۔
حالیہ دنوں میں ہی خود کئی بھارتی اداروں مثلاً،سی بی ائی،اور،این آئی اے، نے ایک دوسرے کے افراد کو گھنائونے جرائم میں ملوث بتایا ہے۔انڈین انٹیلی جنس بیورو میں ایڈیشنل جنرل عہدےپر فائز “پانڈے” کے خلاف ہندوستانی عدالتوں میں “عشرت جہاں”فرضی مقابلے اور اقلیتوں کے قتلِ عام کے کئی مقدمات درج ہیں اور موصوف کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ مگر ہندوستانی عدالتیں بھی اس ضمن میں لیپا پوتی سے آگے نہیں بڑھ رہیں۔ 17 جولائی 2013 کو داخل کروائے گئے تحریری بیانِ حلفی میں اعلیٰ پولیس افسر”ستیش ورما”نے انکشاف کیا کہ بھارت کے خفیہ ادارے 13 دسمبر 2001 کے بھارتی پارلیمنٹ حملے میں ملوث تھے۔علاوہ ازیں 26 نومبر 2008 کی ممبئی دہشتگردی میں بھی کئی بھارتی شخصیات اور تنظیمیں ملوث تھیں،اس سے پہلے کانگریس کے جنرل سیکرٹری اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ “دِگ وجے سنگھ”ایک سے زائد مرتبہ انکشاف کر چکے ہیں کہ 26 نومبر 2008 کو ممبئی حملے سے محض چند گھنٹے پہلے”اے ٹی ایس” یعنی اینٹی ٹیرارسٹ سکواڈ کے سربراہ”ہمینت کرکرے”نے انھیں فون پر بتایا تھا کہ ہندو دہشتگرد تنظیمیں ان کی جان کی درپے ہیں،اور پھر ان کی موت کے بعد جس طرح ان کی “بلٹ پروف”جیکٹ غائب کی گئی اس نے بھی خود بھارتی اداروں کی روش کی بابت کئی سوال کھڑے کر دیے تھے۔مبصرین کے مطابق اس کے باوجود پاک فوج اور “آئی ایس آئی”پر الزامات کی بھارتی بوچھاڑ خود اپنے آپ میں سوالیہ نشان ہے۔مگر اس تمام صورتحال کا عجیب اور افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ عالمی میڈیا اور طاقتور اور موثر بین الاقوامی قوتیں ان سبھی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنی ساری توانائیاں پاک فوج اور قومی سلامتی کے دیگر اداروں کے خلاف الزام تراشیوں پر صرف کر رہی ہیں۔آئے روز بھارتی اور مغربی میڈیا کی جانب سے ان پاکستانی اداروں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ستم بالائے ستم یہ ہے کہ خود وطنِ عزیز کی بعض سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات بھی قومی اداروں کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں اور جو اس مہم میں شامل نہیں انھوں نے بھی معذرت خواہانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم اپنی 15 اگست کی لعل قلعے کی تقریر (بھارتی یومِ آزادی پر) میں اپنی فوج اور خفیہ اداروں کو مضبوط کرنے کی بات کرنے ہیں اور کہتے ہیں کہ “اندرونی اور بیرونی خطرات پر قابو پانے کے لئے بھارتی فوج اور خفیہ اداروں کو مزید وسائل فراہم کئے جائیں گے تا کہ بھارتی سلامتی کسی آزمائش سے دوچار نہ ہو”۔اور ایسا صرف بھارت میں ہی نہیں بلکہ امریکہ سمیت دنیا کے سبھی ترقی یافتہ،ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں میں ہوتا ہے۔یہ ایک الگ موضوع ہے کہ اس صورتحال کو مثالی یا قابلِ رشک قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس امر کے مختلف پہلوئوں پر غالباً بحث ہو سکتی ہے۔کسے معلوم نہیں کہ امریکہ میں نائن الیون کے بعد قومی سلامتی اور انسانی حقوق کے حوالے سے نئے سرے سے قانون سازی ہوئی جو مثبت روش نہ ہوتے ہوئے بھی ایک زمینی حقیقت ہے۔مگر ہمارے یہاں کی نام نہاد سول سوسئٹی کا ایک مخصوص حلقہ جانے کس ایجنڈے کے تحت آرمی اور”آئی ایس آئی” کے خلاف کمر کسے ہوئے ہے،گویا”اپنے بھی خفا مجھ سے بیگانے بھی ہیں ناخوش”۔
انسانی حقوق کے ان نام نہاد علمبرداروں نے بھارت میں اقلیتوں اور مظلوم کشمیریوں کی بابت بڑی حد تک چپ سادھ رکھی ہے۔بلکہ بنگلہ دیش میں بھی گذشتہ چند ہفتوں سے جس طرح بوڑھے اور معمر افراد کو پھانسیاں سنائی جا رہی ہی،اس حوالے سےبھی کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آرہا۔
بہرحال توقع ہے کہ دہلی کے حکمران اپنے یہاں کی اقلیتوں اور کشمیری عوام کے خلاف جاری ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ بند کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں کا سلسلہ ترک کر کے تعمیری روش اپنائیں تا کہ اس خطے میں پائیدار امن و سلامتی کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ علاوہ ازیں وطنِ عزیز کے سبھی سرکاری اور غیر سرکاری طبقات کو باوقار اور خود مختار قوموں کا طرزِ عمل اپناتے ہوئے بھارت سے سوال کرنا چاہیے کہ ان کے سابق آرمی چیف نے پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں کھلی مداخلت کی بابت جو انکشافات کیے ہیں ان کے بارے میں دہلی سرکار کے علاوہ اور کون ذمہ دار ہے؟بھارتی الزام تراشیوں کے جواب میں معذرت خواہانہ اور وضاحتی رویہ اپنانے کی بجائے عالمی اور باہمی سطح پر باوقار ڈھنگ سے زمینی حقائق کو سامنے لایا جائے اور دہلی کا اصل چہرہ بے نقاب کیا جائے۔

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter