کیمیائی ہتھیار، جنگی جرائم اور ۔۔۔

اگرچہ دور حاضر کو بہت سے حلقے انسانی تہذیب و تمدن اور انسانی حقوق کے احترام کے حوالے سے مثا لی قرار دیتے نہیں تھکتے، مگر زمینی حقائق پر نگاہ ڈالیں تو اس تاثر کی تائید کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے، خصوصاً آج بھی دنیا میں ایسے بہت سے بد قسمت خطے موجود ہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کا بدترین سلسلہ اپنی پوری شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور ایسے علاقوں میں یقیناً مقبوضہ کشمیر اور فسطین سر فہرست ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے گذشتہ 71سالوں سے غیر انسانی مظالم کی انتہا ہو چکی ہے مگر اسے عالمی ضمیر کی بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس جانب عالمی برادری نے ہنوذ خاطر خواہ توجہ نہ دی اور اسی وجہ سے اس علاقے میں کشمیریوں کی نسل کشی کا قبیح عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
تبھی تو گذشتہ روز پاک دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں دہلی سرکار کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نہتے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے ۔ اس جانب وزارت خارجہ نے ٹھوس شواہد بھی فراہم کئے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے یہ امر قابل توجہ ہے کہ جنگی جرائم بالعموم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کو امن کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے، اس ضمن میں جارحیت کے نقطہ نظر سے جنگ کی منصوبہ بندی، تیاری اور عملی جارحیت شامل ہیں۔ جنگی جرائم کی دوسری قسم وہ ہے جس کے مطابق انسانی اقدار کے خلاف جرائم ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال کے مطابق اگر دو ممالک یا گروہوں کے مابین بوجوہ جنگ کی نوبت آ ہی جائے تو اس جنگ کے دوران شہریوں کی ہلاکت، عوام پر جان بوجھ کر گولہ باری، زیر حراست افراد کے خلاف دوران حراست تشدد اور ہلاکتیں اور شہری ٹھکانوں کو تباہ کرنا شامل ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اگر کوئی فرد یا گروہ جان بوجھ کر اس قسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے تو عالمی برادری کا فرض ہے کہ جنگی جرائم کے ٹربیونل قائم کر کے ایسے افراد کے خلاف باقاعدہ مقدمات چلائے جائیں اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’نورم برگ‘‘ میں عالمی برادری نے اسی بین الاقوامی قانون اور روایت کے تحت بہت سے نازی جرمنی کے اہلکاروں اور کئی جاپانیوں کو باقاعدہ مقدمہ چلانے کے بعد مختلف نوعیت کی سنگین سزائیں دی تھیں اور پھر گذشتہ برسوں میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد سربیا کے حکمران ’’ملازووچ‘‘ اور اس کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کیا اور ہیگ (ہالینڈ میں قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل ) میں ان کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ اس کے علاوہ کمبوڈیا کے سابق حکمران ’’پول پاٹ‘‘ کے قریبی ساتھیوں کے خلاف بھی جنگی جرائم کے ارتکاب کے تحت مقدمات چلے۔ ایسی صورتحال میں بہت سے حلقوں کی یہ رائے خاصی وزن اختیار کر گئی ہے کہ پچھلے پچیس برسوں سے جس بڑے پیمانے پر جموں کشمیر کی مقبوضہ ریاست میں انسانی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں اور جس شدت سے یہ سلسلہ جاری ہے، ہزاروں افراد کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا گیا،ان جرائم کے مرتکب بھارتیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل میں مقدمات کیوں نہ چلائے جائیں؟
کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں دہلی کے انسانیت سوز مظالم کا جائزہ لیں تو حیرانی اور تعجب ہوتا ہے کہ اس جدید دور میں بھی زمین کے کسی خطے پر اس قدر مظالم روا رکھے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے انتخابات جوں جوں قریب آتے جا رہے ہیں ویسے ہندو انتہا پسندی کا عفریت گویا مزید توانا ہوتا جا رہا ہے، اس حوالے سے یہ بات خصوصی توجہ کی حامل ہے کہ مسلم دشمنی کے اس عمل میں کانگرس اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو مختلف رخ بنے ہوئے ہیں۔ تبھی تو ایک طرف وشو ہندو پریشد کی قیادت میں بابری مسجد کی شہادت کے حوالے سے ’’سریندر جین‘‘ ایک مہا پنچایت منعقد کر رہا ہے جس میں مجوزہ رام مندر کی تعمیر کی حتمی تاریخ کا اعلان کیے جانے کا پروگرام ہے تو دوسری جانب راہل گاندھی کی رہنمائی میں ’’شیو مندر‘‘ کی تعمیر کا ایشو کھڑا کیا جا رہا ہے، اور اعلانیہ کہا جا رہا ہے کہ متھرا کی ’’عید گاہ مسجد‘‘ اور بنارس کی عالمگیری مسجد کی ہر قیمت پر بنیاد رکھی جائے گی۔واضح رہے کہ راہل گاندھی کے جلسوں میں ہر ہر مہادیو کے نعرے لگائے جانا ایک معمول بن چکا ہے جبکہ مودی کے جلسوں میں ’’ہرے رام،ہرے کرشنا‘‘ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ گویااس امر کا شعوری طور پر اہتمام کیا جا رہا ہے کہ سافٹ ہندوتوا کے نام پر مودی اور راہل نئے سرے سے اپنی صف بندی کر سکیں اور زعفرانی دہشتگردی کو نئی توانائی اور تقویت حاصل ہو سکے۔ اس صورتحال کے منطقی نتائج آگے چل کر بھارت کی سالمیت پر کیا اثرات مرتب کریں گے، یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس جانب فی الحال کوئی بھی توجہ دینے کو تیار نہیں۔

آٹھ اکتوبر کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا ۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دارنہیں)

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top