Newspaper Article 29/11/2013
6 ماہ قبل پاکستان میں سیاسی اقتدار کی پر امن منتقلی کے بعد عسکری قیادت میں تبدیلی بھی نہایت احسن انداز سے انجام پا چکی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وطنِ عزیز میں سول ملٹری تعلقات میں قابلِ رشک حد تک بہتری اور توازن پیدا ہوا ہے جس کا اعتراف اندرون اور بیرونِ ملک کیا جا رہا ہے۔اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ اس کھلے راز سے تو تقریباً ہر ذی شعور آگاہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے سیکولرازم کے دعووں کے باوجود زندگی کے ہر شعبے میں ہندوستانی اقلیتیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنتی رہی ہیں مگر یہ تاثر خاصا پختہ ہے کہ انڈین آرمی ایک پیشہ ور فوج ہے لہذا اس کے اندر اقلیت مخالف جذبات شائد اتنے شدید نہ ہوں مگر گذشتہ کچھ عرصے میں جو دستاویزی شواہد سامنے آئے اس نے بھارتی فوج کے نام نہاد پروفیشنل ازم کا پردہ چاک کرنے کے علاوہ سول ملٹری تعلقات میں بڑھتی کشیدگی کو بھی خاصی حد تک بے نقاب کر دیا ہے۔ 31 مئی 2012 کو ریٹائرڈ ہوئے انڈین آرمی چیف”وی کے سنگھ” نے چند روز پہلے اپنی آٹو بایو گرافی بعنوان “کرج اینڈ کنویکشن” شائع کی ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے کئی ایسے انکشافات کیے ہیں جن سے بھارت کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کے تضادات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
وی کے سنگھ نے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ،سابق آرمی چیف جنرل “جے جے سنگھ” (جوگندر جسونت سنگھ)،موجودہ آرمی چیف “بکرم سنگھ” ممکنہ طور پر آئندہ کے انڈین آرمی چیف “دلبِیر سنگھ سہاگ”(جو ان دنوں بھارتی فوج کی ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ ہیں اور غالب امکان ہے کہ 2014 میں وہی اگلے بھارتی فوجی سربراہ ہوں گے)،ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل تیجندر سنگھ اور بھارت کے پہلے وزیرِ دفاع”بلدیو سنگھ” کو اپنی کتاب میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سبھی افراد کا تعلق سکھ دھرم سے ہے۔ مبصرین کے مطابق صرف اس امر سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت کے مابین مذہبی بنیادوں پر کتنی زیادہ گروہ بندی ہے۔
وی کے سنگھ نے وزیرِاعظم منموہن سنگھ ،جنرل جے جے سنگھ(سابق آرمی چیف)،موجودہ آرمی سربراہ جنرل بکرم سنگھ پر کھلے الزامات لگائے ہیں کہ انھوں نے بھارتی فوج میں اپنی پسند کی اعلیٰ تقرریوں کے لئے دانستہ بدعنوانیاں کی اور مالی کرپشن کے مرتکب بھی ہوئے۔
اس کتاب میں سابق وزیرِاعظم اندرا گاندھی،ایک سابق آرمی چیف جنرل سندر جی،آپریشن بلیو سٹار اور “براس ٹیک” فوجی مشقوں کے ضمن میں بھی بہت سے انکشافات کئے گئے ہیں۔
بھات کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی جنرل وی کے سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان کے کسی بھی پڑوسی ملک کو اس پر اعتماد نہیں اور پڑوسی ملکوں کے یہ خدشات بلا وجہ بھی نہیں۔ اس حوالے سے موصوف نے بطورِ دلیل “میانمر”(برما) اور بھارت کے حوالے سے نہایت اہم انکشافات کئے ہیں اور منموہن سنگھ پر وعدہ خلافیوں اور نااہلیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ سری لنکا میں بھارتی فوج کے کردار کے ضمن میں کئی ایسے اعترافات و انکشافات اس کتاب میں موجود ہیں۔ جن کا ذکر ماضی میں بھارت کے ناقدین کرتے رہے ہیں۔
پاکستان اور دیگر پڑوسی ملکوں میں کاروائیوں کے لیے جنرل سنگھ نے “ٹی ایس ڈی” نامی خفیہ آرمی یونٹ کی تشکیل کا فخریہ ذکر کرتے کہا ہے کہ یہ یونٹ بنانے کا فیصلہ محض ان کا نہیں تھا بلکہ بھارتی حکومت اور وزارتِ دفاع کی باقائدہ منظوری اور آشیرواد سے یہ سب کچھ ہوا تھا ۔
اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اس سے ایک بار پھر بھارت کے قول و فعل کے تضادات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ بھارت کی عسکری اور سیاسی قیادت ماضی کی منفی روش ترک کر کے وزیرِاعظم پاکستان کی ان کوششوں کا مثبت جواب دے جن کا مقصد خطے میں کشیدگی سے پاک ماحول اور عدم مداخلت کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے مابین باہمی تعاون کی فضا پیدا کرنا ہے تا کہ سبھی دیرینہ مسائل(بشمول تنازعہ کشمیر)کو منصفانہ ڈھنگ سے حل کر کہ پورے جنوبی ایشیا کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔