IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

! انڈین آرمی ۔۔۔ گرتا مورال، بڑھتے عزائم 

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارتی افواج اپنا مورال اور پروفیشنلزم تیزی سے گنوا رہی ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی بھارتی فوجی کی خودکشی سکہ رائج الوقت بن کر رہ گئی ہے ۔ بھارتی فوجیوں کی جانب اپنے ساتھی اہلکاروں کا قتل اور ان سے لڑائی کی خبریں بھارتی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ابھی چند روز قبل 24 جون کو بھارتی ریاست ناگالینڈآ کے دیما پور میں تعینات انڈین آرمی کے حاضر سروس میجر نکھل ہانڈا نے دہلی میں اپنے ساتھی میجر امیت ترویدی کی بیوی شیلجا ترویدی کی اس سفاکانہ انداز میں جان لی کہ اسے قتل کرنے کے بعد بھی کئی بار اپنی گاڑی سے کچلا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انڈین آرمی اپنا پروفیشنلزم کس تیزی سے گنوا رہی ہے اور اس طرح کے واقعات بھارتی فوجیوں کے مورال پر کس خطرناک طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں، اس کے بارے میں خود بھارت کے دفاعی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ انڈین آرمی میں ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کے زیراثر خودکشی اور ساتھی اہلکاروں کے قتل کے واقعات خطرناک حد تک بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ بھارتی فوجیوں کے مابین افسران کے امتیازی سلوک، ناکافی تنخواہ، چھٹی نہ ملنے، مظالم سے ضمیر پر بوجھ، ٹوٹتے اعصاب، تحقیر آمیز رویے کی وجہ سے ڈپریشن اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے، جس کی وجہ سے بھارتی فوجیوں کی غیر طبعی اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ اتنے بھارتی فوجی چھڑپوں اور آپریشن کے دوران نہیں مرتے جتنے خود اپنے ہاتھوں موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں ، اس سے دیگر فوجیوں کے مورال میں گراوٹ آتی ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ہر مہینے 10 سے 15 بھارتی فوجی خودکشی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں بھارتی سپاہیوں کے علاوہ نو افسران اور 19 جونیئر کمیشنڈ آفیسر بھی خودکشی کر چکے ہیں۔ یوں آپریشن اور جھڑپوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد سے 12 گنا زیادہ دوسری وجوہات سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی سپاہیوں میں اپنے ساتھی اہلکاروں کو قتل کرنے کے واقعات ایک رجحان کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر شعبوں کی مانند بھارتی افواج میں بھی خاتون اہلکاروں کا استحصال ہر سطح پر جاری ہے۔ بہت سے افسران اور اہلکار ساتھی خواتین اہلکاروں کی عصمت دری کے مرتکب ہوتے ہیں اور ایسی خواتین ٹراما کا شکار ہو کر اہل خانہ کی بدنامی کے ڈر سے خودکشی کر لیتی ہیں۔ یاد رہے کہ 26 جون کو معروف عالمی ادارہ ’’تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن‘‘ نے کہا ہے کہ ’’بھارت خواتین کے رہنے کے لئے دنیا کا بدترین ملک بن چکا ہے‘‘۔ مذکورہ فاؤنڈیشن نے اپنے سروے میں کہا کہ بھارتی خواتین کی بہت بھاری اکثریت کسی نہ کسی طور سے جسمانی استحصال کا شکار ضرورہوتی ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ ان خواتین کو انصاف کے لئے بھی بھارتی ججز، پولیس اور ڈاکٹروں کی جانب سے مزید جنسی و اخلاقی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یوں مذکورہ سروے کے مطابق ایسے واقعات میں 70 فیصد سے زائد معاملات رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے۔
بہرحال بات ہو رہی تھی بھارتی فوجیوں کے گرتے مورال کی۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت کے کثیر الاشاعت ہندی اخبار ’’نو بھارت ٹائمز‘‘ کے مطابق گذشتہ ماہ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے انڈین آرمی میں دگردوں صورتحال کا اعتراف کرتے کہا کہ قریباً دو بٹالین جتنے بھارتی فوجیوں کے ہر سال غیرطبعی اموات کا شکار ہونے پر سخت تشویش ہے ۔ یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی وزیردفاع نرملا سیتا رمن کے عہدہ سنبھالنے کے بعد 100 سے زائد ہندوستانی افواج کے افسران بھارتی سپریم کورٹ جا کر انڈین آرمی میں امتیازی سلوک سے متعلق پٹیشن دائر کر چکے ہیں۔ ان سو سے لیفٹیننٹ کرنل اور میجروں کی قیادت کر رہے ’’لیفٹیننٹ کرنل پی کے چوہدری‘‘ نے کہا کہ انڈین آرمی کے مابین شدید گروہ بندی موجود ہے اور افسران کو پروموشن کے ضمن میں بھی امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس سے افسران میں مایوسی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔
سنجیدہ حلقوں کی رائے ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی کے غیر انسانی مظالم ۔۔۔بھارتی فوجیوں میں بڑھتے ڈپریشن اور خودکشی کے رجحانات کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ نہتے عوام پر غیر انسانی مظالم کی وجہ سے سپاہیوں کے ضمیر پر ایک مسلسل بوجھ رہتا ہے جس سے نجات کے لئے انھیں خودکشی کا راستہ ہی نظر آتا ہے۔ پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال،نہتے کشمیریوں پر بد ترین تشدد اور کشمیری خواتین کی عصمت دری کے کچھ عرصے بعد بھارتی فوجی ایک ٹراما کی سی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔دوسری طرف پاکستان کے اندر صورتحال قطعی مختلف بلکہ متضاد ہے اور پاک افواج اور عوام کے درمیان باہمی احترام و اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ بھارت کی ناردرن کمانڈ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل دپیندر سنگھ ہوڈا نے حالیہ بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر (مقبوضہ) کا مستقل سیاسی حل نکالے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ جنرل ڈی ایس ہوڈا نے کہا کہ یہ صرف میرا ماننا نہیں بلکہ جموں و کشمیر (مقبوضہ) میں تعینات بھارتی فوج کے افسران کی اکثریت کا ماننا ہے کہ انسانی حقوق کی اپنی اہمیت ہے اور بھارت کو (مقبوضہ) کشمیر میں جاری جبر و تشدد کی پالیسی کو ترک کر کے عوام کے ساتھ دوستانہ رویہ پیدا کرنا ہو گا۔یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا محض ڈیڑھ سال قبل تک بھارت کی ناردرن کمانڈ کے سربراہ تھے ۔ اسی دوران بھارت کی جانب سے نام نہاد ’’سرجیکل سٹرائیک ‘‘ کا ڈرامہ بھی رچا گیا تھا ۔
اس تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ انڈین آرمی نہ صرف بدترین اخلاقی بحران میں مبتلا ہے بلکہ اس کے اعصاب بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ایسے میں بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی افواج ’’گرتے مورال اور بڑھتے عزائم ‘‘ کی جیتی جاگتی مثال بن چکی ہے۔تیس جون 2018 کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

RELATED
ARTICLES.