دہشتگردی کے خلاف قومی اتفاق رائے

امریکہ کے تحقیقی ادارے “پی ای ڈبلیو ”  ریسرچ سنٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ۶۶ فیصد پاکستانی طالبان کی دہشت گردی کی کاروائیوں کے سخت مخالف ہیں جب کہ صرف ۸ فیصد اس شدت پسند تنظیم کی بابت نرم گوشہ رکھتے ہیں،جبکہ باقی تقریباً ۲۴ فیصد عوام اس بابت کوئی بھی رائے نہیں رکھتے۔
دو جولائی کے معروف امریکی اخبارات  کے مطابق”پی ای ڈبلیو ” ریسرچ سنٹرنے گذشتہ دنوں ایک تفصیلی سروے کیا تھا اس سروے رپورٹ ’’جو کہ اپریل، مئی ۲۰۱۴ میں تیار کی گئی‘‘کے مطابق پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت کو ملک میں جاری مذہبی دہشت گردی پر سخت تشویش ہے اسی وجہ سے پاکستانیوں کی دو تہائی آبادی یعنی ۶۶ فیصد ٹی ٹی پی اور حواری گروپوں سے سخت نفرت کرتی ہے
اس پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی نے پاکستان کی حکومت ،عوام اور مسلح افواج کے خلاف انتہائی شر انگیز پراپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے جس کے تحت یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ پاک آرمی نے دہشت گردی کو کچلنے کے لیے امریکہ کی شہ پر آپریشن شروع کر رکھا ہے اور اسی کے تعاون سے ضرب عضب کے تحت شمالی وزیرستان کو دہشت گردی سے پاک کیا جا رہا ہے اوراس کے علاوہ یہ الزام تراشی بھی کی جا رہی ہے کہ لال مسجد اور دیگر مدرسو ں میں بہت سے طالب علموں کو جان سے ماراجا چکا ہے لیکن حالیہ سروے رپورٹ نے ایک بار پھرثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت باشعور ہے اور اعتدال پسند نظریات کی حامل ہے اسی وجہ سے شدت پسندوں کے بہکاوے میں نہیں آرہی بلکہ ان دہشت گردوں سے نفرت کا اظہار کرتی نظر آتی ہے
اس ضمن میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے سبھی سیاسی،مذہبی اورعسکری حلقوں کے علاوہ میڈیا کی بڑی تعداد بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ تاریخ اسلام کے مختلف اداور میں اس قسم کی متشدد تحریکوں کو کچلنے کے لیے متعلقہ ریاست اور قوم قوت کا استعمال کرتی رہی ہیں یوں بھی پوری قوم جانتی ہے کہ موجودہ دہشت گرد عناصر کی قیادت مذہب اسلام کی تعلیمات کی بابت مستند علم نہیں رکھتی بلکہ ایسے خود ساختہ اور نام نہاد مذہبی ٹھیکے داروں کی بابت ہی شائد کہا گیا ہے کہ
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذان سے
اس بندہ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے
کردار کا ،گفتار کا،اعمال کامومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن،کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
اس تمام پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ یوں تو یہ حقیقت قیام پاکستان کے بعد کے تمام عرصے میں روز روشن کی طرح واضح رہی ہے کہ پاکستانی قوم اعتدال پسند نظریات کی حامل ہے اسی وجہ سے آج تک کسی بھی الیکشن میں سخت گیر موقف رکھنے والے مذہبی عناصر کو انتخابی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی جب کہ دوسری جانب بھارتی حکمرانوں کے تمام سیکولر اور جمہوری دعوؤں کے باوجود بی جے پی چار بار الیکشن جیت کر حکومت بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے صرف اسی ایک امر سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مذہبی انتہاء پسندی کو عوامی پذیرآئی پاکستان میں حاصل ہے یا اس کا اصل منبع ہندوستان ہے امید کی جانی چائیے کہ عالمی رائے عامہ کے سنجیدہ حلقے اس معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے نہ صرف اس کے محرکات کی نشان دہی کریں گئے بلکہ اس کے ممکنہ مضمرات کے پیشگی تدارک پر خاطر خواہ توجہ دیں گے

چار جولائی کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا

 

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top