مقبوضہ کشمیر، انسانی حقوق اور

انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ یوں تو دنیا کے سبھی ملکوں میں انسانی حقوق کی پا مالیوں کا سلسلہ کسی نہ کسی طور جاری ہے اور کسی بھی ملک کی صورتحال کو مثالی قرار دینا غالباً ممکن نہیں ۔ مگر اس ضمن میں بھارت اور اسرائیل کا کردار انتہائی قابلِ مذمت ہے اور خود اسرائیلی حکام کے مطابق تو اس معاملے میں بھارت ان سے بھی بہت آگے ہے ۔ تبھی تو اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کے انٹر نیشنل لاء ڈیپارٹمنٹ ‘‘ کے سربراہ ’’ ڈینیل ریزنر ‘‘ نے کچھ عرصہ قبل یعنی 9 اگست 2010 کو اپنی تحریر میں انکشاف کیا تھا کہ ’’ اسرائیل کا دورہ کرنے والے ایک بھارتی میجر جنرل نے اسرئیلیوں کو تلقین کی تھی کہ وہ فلسطینیوں پر قابو پانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی حکمتِ عملی پر عمل کریں تو انھیں خاطر خواہ کامیابی ہو گی ‘‘ ۔
ظاہر ہے یہ ایسا امر ہے جس کی بابت مختلف نقطہ نظر ہو سکتے ہیں مگر اس بارے میں غلباً کسی کو بھی شبہ نہیں کہ بھارتی افواج نہتے کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اس مکروہ سلسلے میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ اس حوالے سے خاطر خواہ رد عمل ظاہر کرنے میں بڑی حد تک ناکام ہے ۔ یہاں تک کہ اپنے دورِ اقتدار کے دوران دو دفعہ بھارت کا دورہ کرنے کے باوجود امریکی صدر نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پا مالیوں کا ذکر تک کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا حالانکہ 2008 کے اواخر میں اپنی پہلی انتخابی مہم کے دوران وہ کہہ چکے تھے کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لئے تنازعہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے اور صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ اس جانب پیش رفت کریں گے ۔ مگر اب جبکہ وہ اپنے آٹھ سالہ اقتدار کے آخری سال میں ہیں ، تاحال بدقسمتی سے وہ ا س جانب کوئی قابلِ ذکر پیش رفت کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ اس کے باوجود امریکی حکام حیرانی ظاہر کرتے ہیں کہ اسلامی دنیا کے اکثر ملکوں میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص کیوں امریکہ مخالف جذبات عوامی سطح پر پائے جاتے ہیں ۔ اس ضمن میں امریکی حکمران عوامی جمہوریہ چین کی مثبت پالیسیوں سے بھی کوئی سبق حاصل کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے ۔ بلکہ وقتاً فوقتاً کبھی پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے حوالے سے نکتہ چینی کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی کسی دوسرے معاملے میں پاکستان کو بد نام کی کوشش کرتے ہیں ۔
بہر کیف یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ خود بھارت کے بعض حلقے بھی مقبوضہ ریاست میں بھارت کی جانب سے ہو رہی ریاستی دہشتگردی پر کھل کر بات کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ امر بھی یقیناًطے ہے کہ دنیا کے سبھی ذی شعور حلقے اس کھلے راز سے بخوبی آگاہ ہیں کہ قابض بھارتی فوج مقبوضہ ریاست میں انسانی حقوق کی پا مالیوں کے بد ترین سلسلے میں ملوث ہے ۔ کسے علم نہیں کہ ابھی پچھلے مہینے یعنی جنوری 2016 میں بھی قابض ہندوستانی فوجیوں نے نو نہتے کشمیریوں سے زندہ رہنے کا پیدائشی انسانی حق چھین لیا ۔ ان جاں بحق ہونے والوں میں آٹھ مرد اور ایک معصوم بچہ شامل تھا ۔ ان ہلاکتوں میں سے دو بد قسمت افراد کو حراست کے دوران ہندوستانی حکام نے جسمانی اذیتیں دے کر ہلاک کیا ۔ ان مرنے والوں کے علاوہ تین سو چوبیس کشمیریوں کو ماہِ رفتہ میں بد ترین قسم کے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ اسی ایک ماہ کے دوران 286سویلین شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور چار مکانوں اور دکانوں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا ۔
بھارتی تشدد کے نتیجے میں صرف اسی ایک ماہ کے دوران دو خواتین کے شوہروں کو شہید کر کے ان بے کس عورتوں کو بیوگی کے لق و دق صحرا میں دھکیل دیا گیا ۔ اس کے علاوہ پانچ کمسن بچوں کو والدین کے سائے سے محروم کر کے ہمیشہ کے لئے یتیمی کی ٹھکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیا گیا ۔ بھارتی درندگی کی انتہا یہ ہے کہ اسی ایک مہینے میں اٹھارہ عفت مآب خواتین کو اجتماعی بد اخلاقی کا نشانہ بنایا گیا ۔
غیر جانبدار مبصرین کی رائے ہے کہ مغربی دنیا میں انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کا بڑا چرچا ہے اور خود امریکی صدر ’’ اوبامہ ‘‘ اپنے آپ کو انسانی حقوق کا عظیم علمبردار قرار دیتے آتے ہیں ۔ اوبامہ اور ان کے سیاسی ، سفارتی اور عسکری معاونین کی فوج ظفر موج کو بخوبی علم ہو گا کہ جنوری 1989 سے اکتیس جنوری 2016 کے عرصہ کے دوران مقبوضہ ریاست میں قابض بھارتی فوج نے مجموعی طور پر 94305 کشمیریوں سے زندگی چھین لی اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری و ساری ہے ۔
دوسری طرف چند ’’ ایف سولہ ‘‘ طیارے پاکستان کو دینے کے حوالے سے بھارت نے جو شور و غوغا مچایا ہے ، اس رویے کی بھی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ خود دہلی سرکار نے روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کے ذخائر جمع کرنے کا ایسا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا ۔ ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ ایک جانب موثر عالمی قوتیں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے اور اسی کے ساتھ ہندوستانی حکمرانوں پر زور دیں گے کہ وہ ایٹمی اور غیر ایٹمی ہتھیار جمع کرنے کی روش ختم کریں تا کہ نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے میں عام لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کا حقیقی سفر شروع ہو سکے ۔

انیس فروری کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top