دہشتگردی کے سرپرست کون؟

زیر اعظم نواز شریف نے یقین ظاہر کیا ہے کہ پوری پاکستانی قوم شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے اپنے بھائیوں کی بھر پور خدمت اور حمایت کرے گی اور ایسا کرتے ہوئے وہ کسی پر احسان نہیں کرے گی بلکہ یہ حکومت اور عوام کا بنیادی فریضہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 27 جون کو بنوں میں ’’آئی ڈی پی ز ‘‘کے کیمپ کے دورے کے دوران کیا۔واضح رہے کہ آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد سے ۴ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو کر مختلف کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔مبصرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس ضمن میں ملک و قوم کے تمام حلقے اپنا ملی فریضہ احسن طریقے سے انجام دیتے ہوئے ثابت کریں گے کہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہے ۔

دوسری جانب بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات بڑے تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں ۔اس سلسلے کی تازہ کڑی کے طور پر بلوچستان کے علاقے تفتان میں اہل تشیع زائرین دہشتگردی کا نشانہ بنے جس میں ۲۴ معصوم افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ۱۵ شدید زخمی ہوئے۔اس غیر انسانی کاروائی کی ذمہ داری بھی چند کالعدم تنظیموں نے حسبِ روایت بڑے فخر سے قبول کی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سفاکی پر مبنی یہ وارداتیں اسلام کے نام پر بھی سر انجام دی جا رہی ہیں اور اس کے ذمہ دار عناصر خود کو اسلام کے مبلغ اور مجاہد قرار دیتے بھی نہیں تھکتے۔اس ضمن میں یہ امر بھی غالباً خاصا توجہ طلب ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعض حلقے ایسے مظالم کے مرتکب افراد کے ساتھ مولانا ،قاری اورمفتی جیسے محترم الفاظ کا استعمال بے دریغ کرتے نظر آتے ہیں اگرچہ زیادہ تر غیر شعوری طور پر ایسا کیا جاتا ہے مگر ایسا کرتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ نسبتاً محتاط روش اختیار کی جائے تا کہ ایسے محترم اور متبرک لفظوں کی حرمت قائم رہے اور نادانستگی میں ان کے وقار میں کمی آنے کا احتمال نہ رہے ۔
بلوچستان میں چند دہشتگرد تنظیمیں جن میں نام نہاد ’’بی ایل اے ‘‘(بلوچستان لبریشن آرمی) اور ’’بی این ایس ‘‘وغیرہ زیادہ فعال ہیں ۔غیر جانبدار مبصرین کی اکثریت اس امر پر متفق ہے کہ ان شر پسند عناصر کو بھارت ،افغانستان،امریکہ اور کچھ دیگر ممالک کی فعال سرپرستی حاصل ہے اور دہشتگردی کی یہ روش زیادہ تر انہی ممالک کے خفیہ اداروں کی شہ پر جاری ہے۔
قابلِ ذکر امر یہ بھی ہے کہ سابق وزیرِ داخلہ ’’رحمان ملک‘‘ ایک سے زائد مرتبہ واشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں میں جاری بدامنی کو بھارتی خفیہ اداروں کی پوری سرپرستی حاصل ہے اور اس امر کے ٹھوس شواہد بھارتی حکومت کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔امریکہ کے موجودہ وزیرِ دفاع چک ہیگل بھی کچھ عرصہ قبل اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں کہ بھارت کے خفیہ ادارے افغانستان کے راستے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
علاوہ ازیں ۲۰ مئی ۲۰۱۴ کو بلوچستان کے صوبائی وزیرِ داخلہ ’’سرفراز بگٹی‘‘ پریس کانفرنس میں کھلے الفاظ میں اس حقیقت کو آشکار کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں دہشتگردی کو فروغ دینے کے لئے چند ہمسایہ ملکوں کے خفیہ ادارے سرگرم ہیں۔اور اس مقصد کے لئے بڑے پیمانے پر بھیجا جانے والا اسلحہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے برآمد کر لیا ہے جو دہشتگردی کی بڑی وارداتیں انجام دینے کے لئے بھیجا گیا تھا۔اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ یہ امر کسی سے بھی پوشیدہ نہیں کہ گذشتہ ۳ عشروں سے افغانستان اور پاکستان میں پیدا شدہ شدت پسندی کا ماحول ایک خاص پس منظر میں جاری ہے اور اس کی بنیادی وجہ افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کی مسلح مداخلت اور قبضہ تھاکیونکہ سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے خلاف امریکہ اور یورپ نے ردِ عمل کے طور پر جو حکمتِ عملی اپنائی اس کے اثرات پاکستان کو ابھی تک بھگتنے پڑ رہے ہیں اور اس امر کا اعتراف سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایک سے زائد مرتبہ ان الفاظ میں کیا ’’پاکستان میں جاری دہشتگردی دراصل افغانستان میں اپنائی گئی سابق امریکی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے‘‘۔
غیر جانبدار مبصرین کے مطابق امریکی سابق وزیرِ خارجہ کا یہ بیان سو فیصد حقائق پر مبنی ہے مگر بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس ضمن میں امریکی حکمرانوں نے انتہائی دوہرے میعار اپنا رکھے ہیں وگرنہ ساری دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ گذشتہ ۲۵ سالوں میں امریکہ کو دنیا کی اکلوتی سپر پاور ہونے کا جو مقام حاصل ہے وہ سراسر پاکستان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس وقت کی پاکستانی حکومتوں کی اپنائی گئی پالیسیاں کس حد تک ملکی مفاد میں تھیں یا نہیں مگر اس امر سے پاکستان کے بدترین مخالفین بھی انکار نہیں کر سکتے کہ امریکہ کو موجودہ مقام پاکستان ہی کی بدولت ممکن ہوا گویا
پہلے کہاں یہ ناز تھے یہ عشوہ و ادا
ہم کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا
دوسری جانب امریکی طرزِ عمل ملاحظہ ہو کہ بیت اللہ محسود وغیرہ کے خلاف تو ڈرون حملے جھٹ پٹ ہو جاتے ہیں مگر افغانستان کے صوبے ’’کنڑ‘‘ میں تحریک طالبان کے سربراہ ’’فضل اللہ‘‘ کے خلا ف ڈرون حملے کرنا شائد امریکہ کی دور کی ترجیحات میں بھی شامل نہیں ۔ایسے میں امریکی بالا دست طبقات جب پاکستان میں عوامی سطح پر امریکی مخالفت پر حیرت ظاہر کرتے ہیں تو شائد یہی کہا جا سکتا ہے کہ
’’اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا’’
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

 

اٹھائیس   جون کو نوائے وقت میں شائع ہوا

(مندرجہ بالا تحیریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top