چوتھی عالمی جنگ ۔۔۔؟؟ 

بھارتی حکمرانوں کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ مبصرین کی اس ضمن میں رائے ہے کہ دہلی سرکار کے اس موقف کو غالباً جزوی طور پر ہی صحیح قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ اگر ایک طے شدہ وقت پر محض حکومتوں کی تبدیلی کا نام جمہوریت ہے تو بھارت کو اس ضمن میں بلاشبہ ’’الیکٹورل ڈیموکریسی‘‘ تو قرار دیا ہی جا سکتا ہے مگر اس سے آگے اونچی ذات کے ہندوؤں کے علاوہ بھارت میں کسی طبقے کو بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں اور مقبوضہ کشمیر میں تو عالم یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل تو قابض بھارتی فوج کے میجرلیتل گگوئی کی جانب سے ایک کشمیری نوجوان کو جیپ کے آگے باندھ کر وادی کے چکر لگانے کا واقعہ پیش آیا تھا، مگر اب تو باقاعدہ نہتے کشمیریوں کو گاڑیوں کے نیچے کچلا جا رہا ہے اور ان کے اوپر سے بار بار گاڑی گزاری جاتی ہے تا کہ ان کی شہادت یقینی ہو سکے۔ اس سب کے باوجود بھی اگر عالمی برادری کے کچھ حلقے دہلی کے ان انسانی حقوق کے تحفظ کے دعووں کو درخور اعتنا جانیں تو اس سے بڑا المیہ یقیناً کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔گذشتہ روز آسیہ اندرابی اور شبیر شاہ کو گرفتار کیا گیا بلکہ عام خواتین کو بھی جرم بتائے بغیر گرفتار کر کے بے سر و پا الزامات عائد کیے گئے۔
دوسری جانب محض ایک روز پہلے سابق بھارتی صدر پرنب مکرجی نے ناگپور میں ’’آر ایس ایس‘‘ کے ہیڈکوارٹر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان میں لمحہ بہ لمحہ بڑھتی انتہاپسندی خود بھارت کے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ بھارت میں رہنے والے اکثر طبقوں کو مکمل مذہبی آزادی اور آزادیِ اظہار رائے کا حق حاصل نہیں ہے اور ہندوستان کی انتہا پسند تنظیموں کی روش سے بھارت کا سیکولرازم کا امیج چرمرا کر رہ گیا ہے ۔ اس معاملے کا جائزہ لیتے غیر جانبدار ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ سابق بھارتی صدر پرنب مکرجی نے 25 جولائی 2012 کو اپنا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے کہا تھا کہ ان کی دانست میں گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے دنیا میں چوتھی عالمی جنگ جاری ہے۔ اپنی اس بات کی مزید وضاحت کرتے موصوف نے کہا تھا کہ گذشتہ صدی میں پہلی اور دوسری عالمی جنگیں تو تاریخ کا حصہ ہیں جن سے ہر کوئی بخوبی آگاہ ہے۔ مکرجی نے نکتہ آفرینی کرتے اس ضمن میں کہا تھا کہ سابقہ سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان ’’سرد جنگ‘‘ کئی دہائیوں تک جاری رہی اور یہ بھی درحقیقت عالمی جنگ ہی تھی جس کا اختتام سوویت یونین کے خاتمے پر ہوا اور اس کے بعد نائن الیون کے سانحے سے لے کر آج تک چوتھی عالمی جنگ جاری ہے جسے بعض حلقے دہشتگردی کے خلاف جاری عالمی جنگ کا نام دیتے ہیں۔
ماہرین نے سابق بھارتی صدر کے اس موقف کو جزوی طور پر درست قرار دیتے کہا ہے کہ اگر سابق بھارتی صدر مملکت یہ وضاحت بھی کر دیتے کہ چوتھی عالمی جنگ کا اصل ہدف محض مسلمانانِ عالم بن رہے ہیں اور بھارت ان جارح ممالک کی صفِ اول میں شامل ہے تو شاید ان کا موقف زیادہ جامع اور حقیقت سے قریب تر ہو جاتا۔ کیونکہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر، آسام و دیگر بھارتی علاقوں، اس کے علاوہ بلوچستان، سندھ و پاکستان کے مختلف حصوں اور افغانستان میں ہر ممکن ڈھنگ سے دامے، درمے اور سخنے اس چوتھی (ان کے بقول) عالمی جنگ میں اپنا جارحیت پر مبنی حصہ ڈال رہا ہے۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار حلقوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی صورت میں تمام عالمی برادری کشمیری قوم سے یہ وعدہ کر چکی ہے کہ انھیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور اس مقصد کے لئے ’’استصواب رائے‘‘ کا حق دیا جائے گا مگر یہ وعدہ تاحال پورا نہیں ہو سکا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً فلسطین میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی پر افسوس ظاہر کیا جاتا ہے مگر اس کو روکنے کی بابت کچھ نہیں کیا جاتا۔ دوسری جانب سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق لیبیا میں قذافی حکومت ختم کرنے کا کہا گیا، اس پر نہ صرف آناً فاناً عمل ہوا بلکہ خود قذافی بھی شہید کر دیئے گئے۔ شام میں بھی یہی صورتحال درپیش ہے، اقوام متحدہ میں اس مسئلے کا ذکر ہوتے ہی روس، امریکہ و دیگر ممالک نے شام میں اپنی فوجیں اتار دیں اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا۔ کشن گنگا ڈیم کی بابت بھی عالمی برادری اپنی مخصوص تعصب زدہ ذہنیت کا ثبوت دے رہی ہے۔ اس سے پہلے ماضی قریب میں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے ضمن میں جس سرعت کے ساتھ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرایا گیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ ایسے میں یو این میں پاکستان کی مستقبل مندوب ملیحہ لودھی نے یقیناًدرست کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں مجوزہ اصلاحات کی بابت کوئی بھی بات تب تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی جب تلک اقوام متحدہ کی منطور کردہ سابقہ قرار دادوں پر عمل نہیں کرایا جاتا ۔۔۔!!!

نو جون کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top